ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نہیں منظور ہو سکا طلاق ثلاثہ بل، ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی

نہیں منظور ہو سکا طلاق ثلاثہ بل، ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی

Sat, 06 Jan 2018 00:11:30    S.O. News Service

نئی دہلی،5؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) طلاق ثلاثہ کے تئیں برسراقتدار جس غیر مرئی ’دھن ‘ پر تھرک رہا تھا بالآخر اس کی تال ہی ٹوٹ گئی اور عین وقتِ رقص اس کی لے ہی ختم ہوگئی ۔واضح ہو کہ پارلیمنٹ کا 15 دسمبر سے شروع ہو نے والا سرمائی اجلاس آج غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس دوران کئی اہم بل منظور ہوئے لیکن ایک بار میں تین طلاق کو فوجداری جرم پر مبنی طلاق ثلاثہ بل کو منظوری نہیں مل سکی اور اس طرح مودی کابینہ کی تمام کوششوں پر پانی پھر گیا ۔ بل لوک سبھا میں منظور ہونے کے بعد راجیہ سبھا میں زیر التواء ہو گیا کیونکہ متحد اپوزیشن اسے سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا اصرار کرتی رہی۔لوک سبھا کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے سے پہلے اسپیکر سمترا مہاجن نے بتایا کہ سولہویں لوک سبھا کے اس تیرہویں سیشن میں رکاوٹوں اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے التوا کی وجہ 14 گھنٹے اور 51 منٹ کا وقت تباہ ہوا اور سبھا نے 8 گھنٹے 10 منٹ دیر تک بیٹھ کر مختلف اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔راجیہ سبھا میں اس سیشن کے دوران 34 گھنٹے مختلف مسائل پر ہوئے ہنگامے کی نذر ہوئے ۔ ایوان بالا کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے سے پہلے چیئرمین وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ہم سب کے لئے اس کا جائزہ لینے اورخود احتسابی کرنے کا موضوع ہے کہ ہم نے ایوان کی کارروائی کو منظم کس طرح کیا۔ انہوں نے تمام اراکین کو سیاسی عمل کا حصہ بتاتے ہوئے کہا کہ آپ مجھ سے اس بات سے اتفاق کریں گے کہ اگرچہ پارلیمنٹ سیاست کا ایک اہم ادارہ ہے، لیکن یہ مخصوص معنوں میں سیاست کی ترقی نہیں ہوسکتی ، جو کہ غیر فطری تقسیم پر مبنی ہے۔ لوک سبھا میں سال2017-18کیلئے گرانٹ کے ضمنی مطالبات کے دوسرے اور تیسرے بیچ پر چھ گھنٹے سے زیادہ بحث ہوئی اور متعلقہ بل منظور کئے گئے۔ سیشن کے دوران لوک سبھا میں کئی خصوصی بل منظور ہوئے ۔ لوک سبھا نے ایک بار میں تین طلاق یا طلاق بدعت کو فوجداری جرم بنانے والا بل گرچہ ایوان زیریں میں منظور ہوگیا ؛ لیکن ایوان بالا میں جاکر منظور نہ ہوسکا ۔جس اپوزیشن نے ایوان زیریں میں حمایت کی تھی اسی اپوزیشن نے برسراقتدار طبقہ کی پرواہ کئے بغیر اس کوسلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کی درخواست پر بضد رہا ۔ ایوان بالا میں رہنما ایوان اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ اس بل کو جلد منتقل کرنا اس لئے ضروری ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں چھ ماہ کے اندر اندر قانون بنا کر تین طلاق کو محدود کرنے کو کہا ہے۔ ایوان بالا میں دو جنوری کو ایک ریکارڈ اس وقت قائم ہوا جب وقفہ صفر اور وقفہ سوال میں درج تمام کاموں کو مقررہ وقت میں مکمل کر لیا گیا ۔ طلاق ثلاثہ بل کی نامنظور ی سے ملک کے ایک مخصوص طبقہ کو فکر لاحق ہوگئی ہے اور ان کو مسلم خواتین کی فکر ستانے لگی ہے ۔ لیکن واضح ہو کہ یہ محض ’تزویر اہرمن ‘ ہے۔ ان طبقات کو ان خواتین کی فکر کرنی چاہیے جو اس ملک میں آشرم میں جی رہے ہیں ۔ادھر اپوزیشن کے مطالبہ پر مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کا کہنا ہے کہ کانگریس کی وجہ سے تاخیر ہوسکتی ہے ، مگر اندھیر نہیں ہے ، مختار عباس نقوی کو یقین ہے کہ ایک دن ضرور مسلم خواتین کو مزعومہ ستم سے نجات دلائیں گے ۔ بی جے پی کی ممبر پارلیمنٹ روپا گنگولی کا کہنا ہے کہ بل پر ایوان میں ہی بحث ہو یہی بہتر ہے ۔ سلیکٹ کمیٹی میں کچھ منتخب لوگ ہی بل پر بحث کر سکیں گے۔بتایا جاتا ہے کہ بل پر بحث کے پیش نظر کانگریس اور بی جے پی دونوں نے اپنی اراکین کو وہپ جاری کرکے ایوان میں موجود رہنے کیلئے کہا تھا۔


Share: